15 اپریل 2013 - 19:30
مسجد الاقصی کے مشرق میں یہودی پارک کی تاسیس پر مصر اور فلسطینی شخصیات کا ردعمل

صہیونی حکام نے اپنے ایک توہین آمیز اقدام کے تحت مسجد الاقصی کے مشرقی حصہ میں ایک یہودی پارک کی تاسیس کا فیصلہ کیا ہے جس پر مصر اور فلسطینی شخصیات نے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

ابنا: صہیونی ریاست نے اپنے ایک توہین آمیز اقدام کے تحت مسجد الاقصی کے مشرقی حصہ میں ایک یہودی پارک کی تاسیس کا فیصلہ کیا ہے جس پر مصر اور فلسطینی شخصیات نے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔فلسطین میں مصر کے سفیر یاسر عثمان نے مسجدالاقصی کے مشرقی حصہ میں یہودی پارک کی تاسیس پرمبنی صہیونی ریاست کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیت المقدس کا امن مصر کا امن ہے۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ مصر صہیونی ریاست کے اس منصوبے کی مذمت کرتا ہے اور کسی کو دین اسلام کے مقدسات کی توہین کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور ہم مسجد الاقصی کی حمایت کے لیے اپنی پوری کوشش کریں گے۔مصرکے سفیر نے بیت المقدس کا وزٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کاملک، فلسطین کی حمایت کرتا ہے اور یہ مسئلہ اس کی ریڈ لائن ہے اور ہمیشہ اس کا موقف یہی رہے گا۔عثمان نے اسلامی اور عربی ممالک کی جانب سے فلسطین کی مالی امداد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوحہ کی کانفرنس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ بیت المقد س کی مالی امداد کے لیے ایک فنڈ تشکیل دیا جائے۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ اگر اسلامی اور عربی ممالک متحد ہو جائیں تو وہ صہیونی ریاست کے توہین آمیز اقدامات کا راستہ روک سکتے ہیں۔بیت المقدس کے بین الاقوامی سنٹر نے بھی اپنے ایک بیانیے میں صہیونیوں کے اس اقدام پر خبر دار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسجد الاقصی کی زمین پر یہودی پارک کی تاسیس ایک غیر قانونی اقدام ہے اور صہیونی اپنے اس اقدام کے ذریعے فلسطین کے اسلامی اور عربی تشخص کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔

.......

/169